پٹنہ27جولائی(ایس اونیوز/ایجنسی)نیٹ کے لئے پٹنہ کے پانچ امتحان مراکزپرہورہے امتحانات کے دو ران مسلم طالبات نے نگراں امتحانات اورامتحان مراکزکے ذمہ داران کے خلاف جانچ کے نام پرنقاب اتروانے اورویڈیو کی شکایت ایس ایس پی منومہاراج سے کی ہے۔اس واقعہ سے مسلم طلبہ وطالبات میں زبردست غصہ ہے جس سے اعلیٰ مقابلہ جاتی امتحان کے مراکزکی منفی ذہنیت ثابت ہوتی ہے۔لیکن طالبات نے امتحان کے بعدبروقت کارروائی کی ۔معاملہ کے خلاف انڈین پینل کوڈکی سخت دفعات لگائی گئی ہیں۔تفصیل کے مطابق دفعہ509،جس کے تحت کم ازکم د و سال کی سزایاجرمانہ یادونوں ہوسکتے ہیں ۔مزیددفعہ 354(کرمنل فورس ٹوویمن)کے تحت کیس درج کیاگیاہے جس میں ایک برس سے پانچ برس تک کی سزاممکن ہے۔295سیکشن اے کے تحت بھی کیس درج کرایاگیاہے۔جس میں کم ازکم تین سال کی سزاہوسکتی ہے ۔ان کے علاوہ ایس ایس پی نے اس معاملہ کی جانچ کرکے ضروری کارروائی کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔انہوں نے کہاکہ اگران طالبات کے ساتھ امتحان کے اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی تومجرموں پرکارروائی ہوگی۔ایس ایس پی نے سی سی ٹی وی کیمرے کی جانچ کابھی حکم دیاہے۔ہندی اخبارات پربھات خبر،ہندوستان،اوردینک بھاسکرکے مطابق طالبات کاالزام ہے کہ امتحان مراکزپران کے ساتھ جانچ کے نام پربدسلوکی کی گئی ۔طالبات کاکہناہے کہ داناپور،سگوناموڑ،پاٹلی پترااورآدم کنواں علاقے میں واقع امتحان مراکزپرنقاب پوش طالبات کونقاب اتارکرچیک کیاگیا۔نیزویڈیوویکارڈنگ تک کرائی گئی۔مخالفت کرنے پران کے ساتھ بدسلوکی کی گئی ۔اس سے انہیں ٹھیس پہونچی ہے۔طالبات نے ان تمام امتحانات کے مراکزپرقانونی کارروائی کرنے کامطالبہ کیاہے اوراس کی تحریری شکایت ایس ایس پی سے کی ہے۔بتایاجاتاہے کہ پانچ مراکزالگ الگ تھانہ کے تحت ہونے کی وجہ سے طالبات کویہ پریشانی ہورہی تھی کہ کہاں ایف آئی آردرج کرائی جائے۔اس لئے سبھی طالبات امتحان دینے کے بعددیرشام ایس ایس پی کی آفس پہونچیں اورانہیں اس معاملہ کی اطلاع دینے کے ساتھ ساتھ تحریری شکایت درج کرائی۔جس میں ان پرقانونی کارروائی کامطالبہ کیاگیاہے۔